"پیاس"

پیاس ہے کے بجھتی نہیں
شام ہے کہ ڈھلتی ہی نہیں
تیری یادیں اتنی گہری ہیں
اک عمر ہوئی مگر ڈھلتی ہی نہیں
تحریر: محسن علی

Comments

Popular posts from this blog

Social Fabric in Society

“ دھوتی پر کوٹ ”

Artice Secret of Success