"بلا عنوان "

جب الفاظ نہ ہوں کہنے کو 
جب کوئی جگہ نہ ہو ٹہر جانے کو
بس سفر  میں تن تنہاہو جانے کو 
کوئی سایہ بھی نہ ہو بیٹھ جانے کو 
اور وحشتوں کو بڑھ جانے دو 
پھر زندگی کسی شام ڈھل جانے کو 
اورکوئی بھی نہ ہو گلے لگانے کو 
پھر کیوں نہ جی چاہے مرجانے کو 
تحریر : محسن علی

Comments

Popular posts from this blog

Social Fabric in Society

“ دھوتی پر کوٹ ”

Artice Secret of Success