" پارسائی"

ہر طرف تماشہ تھا اپنی اپنی پارسائی کا
دکھا دھن کھل گیا بھید ہر پرچھائی کا
تحریر: محسن علی

Comments

Popular posts from this blog

Social Fabric in Society

“ دھوتی پر کوٹ ”

Artice Secret of Success