Posts

"ایدھیزم‬"# 2

میں نے انسانی تاریخ کا آج تک جتنا مطالعہ کیا ہے اس میں عمر بن عبدالعزیز کےبعد کسی انسان کو انسانیت کی میراث کا وارث پایا وہ عبدالستار ایدھی ہیں ... ‫#‏ ایدھیزم‬

"‏ایدھیزم‬"

میرے بتیس سالہ دل کے قبرستان میں ایک آدمی کی نہیں ایک انسان کی قبر دفن ہوئی ہے اور یہ قبر یتیموں کے خدا عبدالستار ایدھی کی ہے ..میں دل کی قبروں کو روشن رکھتا تھا اب پورا قبرستان ہی روشن ہوگیا.. شکریہ ایدھی ‫#‏ ایدھیزم‬

"کانسہ"

پلٹ کے کانسہ جب اس نے دیکھا ظالم کی زمین کھسک چکی تھی .. تحریر :محسن علی

" پارسائی"

ہر طرف تماشہ تھا اپنی اپنی پارسائی کا دکھا دھن کھل گیا بھید ہر پرچھائی کا تحریر: محسن علی

" انسانیت"

اپنے دل میں مسجد,مند, گرجا بنایا میں نے پھر کہیں جاکر انسانیت کا سبق پایا میں نے تحریر: محسن علی

" کاجل "

ہونٹ خوبصورت , آنکھوں میں کاجل دھیرے دھیرے کرتا ہے پاگل .... تحریر: محسن علی

"ذات"

تمھارے قریب آنا چاہتا ہوں تیری ذات میں سمانا چاہتا ہوں.. تحریر: محسن علی

"نظر "

تیرا لوٹ آنا بھی ادھوری عبادتوں کا اثر ہے تیرے آنے سے سکوں ہوا میسر اسکا شکر ہے عبادتیں لوٹ آئیں تو , اگر میری آیتوں میں اثر ہے.. وہ سن لے میری جو مجھ سے , پوشیدہ نظر ہے تحریر: محسن علی

"شمع"

اپنے حصے کی شمع ہم جلاتےہیں جلاد تھوڑی ہیں جو دوسروں کے گھر جلاتے ہیں

"انسانیت"

آخری سانس تک یہی کلمہ دوہرائنگے انسانیت کے لئے صدا آواز اٹھائنگے ہم تکفل مکتب ہیں, ہر حال میں قلم اٹھائنگے تھکینگے نہیں رکیں گے نہیں , چاہے تو مرجائنگے جب ہم یہ دنیا چھوڑ جائنگے, تو نئ نسل کو قلم دے جاائنگے دفن کروگے تم ہمیں , ورق کفن بن جائنگے قبر مٹادو چاہے تم , ہم کتابوں میں مل جائنگے .. تحریر :محسن علی

کراچی !

کراچی    کی معیشت کی بہتری کی بہت بات کی جاتی ہے مگر اس ماہ رمضان طارق روڈ ,صدر اور کریم آباد میں افطار کے بعد بھی دکاندار مکھیاں مارتے نظر آئے, کریم آباد جہاں لڑکپن میں آپ دھکے سے اندر جاتے تھے اور دھکے سے باہر آتے تھے عید کے دنوں میں وہاں دکانیں بند اور اکا دکا خریدار مارکیٹ میں دکھائی دئے جبکہ طارق روڈ کی صورت حال یوں تھی ہر چوتھا دکاندار آپ کو ایسے دیکھتا کہ آپ اسکے خریدار بن جائیں گاڑیوں کا رش تو خوب مگر دکاندار دکانیں خالی بس ڈولمین مال اور گلیمر ون  میں کچھ عوام تھی جبکہ صدر عام دنوں سے کم رش کا منظر پیش کر رہا ہے افطار کے بعد کراچی کی تین بڑی مارکیٹوں کا حال گیارویں سے بیسویں روزے تک کی اب جو لوگ کراچی میں امن کی صورت حال کی بہتری اور کراچی کی معیشت مستحکم ہوئی ہے تین چار سال میں اچھی ہوئی ہے ان سے گزارش ہے ٹی وی سے نکل کر یہ تینوں مارکیٹیں تیسویں روزے کو بھی مکمل بھری نہیں مل سکیں گی کیونکہ کراچی کی عوام کا پیسہ پانی خریدنے میں خرچ ہورہا ہے یا پھر جنریٹر اور یو پی ایس لگوا کر ماہانہ ہزار روپے بل ادا کرنےکی صورت میں کوئی عقل کا اندھا ہی ہوگا میری نظر میں جو کراچی شہر کی

"حقیقت زندگی کے رنگ" #21

میں پیدائشی طور پر سننی راس العقیدہ پیدا ہوا تھا مگر آج سے پندرہ سال پہلے اہل تشیعہ ہوا بس کچھ چیزوں سے متاثر ہوکر اور پڑھ کر پھر ہمیشہ سے ایک بات پریشان کرتی تھی کہ میں تعلیم میں کم اور کوئی ہنر یا صلاحیت کیو نہیں پھر یہ ایک لائن نے اثر ڈالا "علی کے گن جو گاٰئگا وہ کمال فن پائگا" اس کے بعد لکھنے لگا اور آج میں کل سے بہتر لکھ سکتا ہوں. تحریر:محسن علی

"فرق"

تمھارے بغیر فرق پڑتا ہے دل لرزتا ہے تمھارے بغیر کچھ بھی کرنے کا دل کہاں کرتا ہے تم تو چلے گئے بن بتائے مگر  تم کیا جانو دن کیسے کٹتا ہے جب روز دن ڈھلتا ہے ایک بوجھ سینے میں بڑھتا ہے آنکھ کھلتی ہے صبح کو تو تیرا چہرا دیکھنےکو دل کرتا ہے خیالوں و تصور میں مسلسل بس تیرا ہی وجود دکھتا ہے کیسے بتائیں تم کو تمھاربنا کیسے ہر ہل گزرتا ہے لوٹ آؤ بھی اب تم یہ دل تیری راہ تکتا ہے بہت تھک چکا ہوں میں اپنے ہی وجود سے میں تیری بانہوں میں میں گرنے کا دل کرتا ہے تحریر: محسن علی

"ضروری تو نہیں "

جو زندہ ہو ضروری تو نہیں  وہ جی بھی رہا ہو ... اور جو جی رہا ہو  وہ زندہ بھی ہو یہ بھی ضروری نہیں قبرستان ہر دوسرے شخص کے دل میں ہے کوئی قبروں کی زیارت کرے روز یہ  ضروری تو نہیں , مسکراہٹیں ہو چہرے پر جس کے روشن  اس کا دل بھی روشن ہو ضروری تو نہیں , روئے تو دل لرزادے , مگر دل بھی روئے ضروری تو نہیں ,  ہر بات کو جھوٹ کہ کر رد کردے ,  مگر دل میں سچائی ہو ضروری تو نہیں,  کھائیں ہو زخم دل پر مگر  چہرے پر عیاں ہوں ضروری تو نہیں ,  تم نے جو وعدے کئے تھے مجھ سے , تم انکو نبھاؤ ضروری تو نہیں ,  عشق میں تیرے میں جل جاؤں ضروری تو نہیں ,  تم نہ ملو اور میں مرجاؤں ضروری تو نہیں  کاتب تقدیر ایسا لکھا کیوں نہیں .. تحریر محسن علی

" تھک"

کیوں تھک گئے کیا خود سے چلو پھر بات کرو , مجھ سے   تحریر:محسن علی

"انسان"

میری باتوں کو لوگ کب سمجھیں گے میں جب مر جاؤنگا تو تب سمجھیں گے میں زندہ ہوں تو پوچھتے نہیں سوال بعد میری تحریروں سے سمجھیں گے ابھی سب کو اپنی اناؤں پر ہے ناز  پھر میری تحریروں سے اپنے مطلب کا سمجھیں گے میری باتوںسے لاکھ اختلاف سعی, انسان ہوں کچھ انسان ہی سمجھیں گے تحریر:محسن علی

"پاکستان کی بڑھتی ہوئی تنہائی"

یشیاء میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی تنہائی کی ذمہ داری عسکری اور سول حکومت دونوں پر برابری کی ہی ہے تقریبا کیونکی جب کیانی صاحب کے دور میں خارجہ پالیسی سول قیادت کو دینے کی کوشش کی تو انہوں نے اپنے ہاےھ میں نہیں لی , دوسرا جب نوز شریف صاحب آئے تو انہوں نے اس وجہ سے یہ منصب خود کے پاس رکھ لیا کہ عسکری قیادت پر انہیں یقین نہیں کہیں امریکہ کی حمایت کم ہوگئ تو استعفی نہ دینا پڑجائے دوسرے پاکستان نے افغانستان سے جو تجارتی معاہدہ کیا تھا زرداری دور میں اس میں کوئ پیش رفت نہیں دیکھی گ ئ اور پاکستان کے مقابلے میں انڈیا نے وہاًں یونیورسٹی کے   یونیورسٹی کے قیام سے وہاں کی عوام اور حکومت کےلئے جگہ پیداکی جبکہ پاکستان کا اسسطرح کا کوئ خاطر خواہ منصوبہ سن نے کع نہیں ملا اور انڈیا امریکہ کےبعد دوسرا بڑا انویسٹر ہے افغانستان میں اسلئے کہا جاسکتا ہے خارجی امور میں نواز شریف اور اندرونی سیاست میں نواز شریف کی سوچھ و سمجھ میں ابتک تبدیلی نہیں آئی اگر کوئی بڑا اتحاد سامنے آگیا جو کہ پاکستان کی سیا ست میں کسی بھی وقت کچھ بھی عین ممکن ہے کیونکہ سیکولر قوتوں کے ساتھ مذہبی سیاسہ جماعتوں کا اتحاد دیکھنے می

"بھول"

وحشتیں حد سے بڑھ جائیں تو اکثر خود سے روٹھ جاتا ہوں لوگ کرتے ہیں ,میرے درد کی بات میں اپنے درد بھول جاتا ہوں جب بھی تیری گلی سے گزروں اپنے دیوار و در بھول جاتا ہوں عجب طلسم ہے تیری یادوں کا اپنی روح کے زخم بھول جاتا ہوں اکثر ہاتھ اٹھاؤں جو دعاؤں کے لئے تیرے نام کے سوا سب بھول جاتا ہوں تحریر: محسن علی

"حقیقت زندگی کے رنگ" # 20 " ہلکا پھلکا تشدد"

ایک مجھ جیسے بندے پر ہلکا پھلکا تشدد یہ کیا جاسکتا ہےاس کے سالن میں مرچ سامنے رکھ دی جائے تاکہ وہ مزید کم کھائے ڈر کے مارے .. (تحریر محسن علی)

"حقیقت زندگی کے رنگ" # 19 "محبت کی وجہ"

دل سے نکلی بات محبت کی وجہ بنتی ہے , میرے لئے کیونکہ جو عشق میں نے کم عمری میں کیا مجھے بس اسکا انداز گفتگو اور عزت سے بات کرنا انتہائی بچپنے میں گرویدہ کرگیا تھا وہ جدا تو ہوگیا مجھ سے مگر محسوس اکثر ہووتا ہے ..اسی طرح ایک دوست جو بہت کم عرصے میں عبادت کی طرح ہوگیا میں نے اس اور وہ بھی اسکا انداز بیا تھا اور سن نا انہماک سے ,اب وہ میرے وجود کا حصہ نہیں بلکہ میری ذات کا صدا حصہ رہےگی تومیری نظر میں محبت کا پہلو یہ ہے , محبت کے تین درجے ہیں پیار محبت اور عشق پیار اتنی تکلیف نہیں دیتا اور زیادہ تر لوگوں کو ایک عمر بعد چہرہ یا نام یاد بھی نہیں رہ پاتا , جبکہ محبت پھر یاد رہ جاتی ہے مگر پوری طرح آپکو نہیں گھلاتی اگر نہ ملے جبکہ عشق آپ کے ذہن اور دل کو گھری چوٹ دیتا ہے کہ آپ سنبھل نہیں پاتے اور تنہائ کی انتہا وحشتیں بڑھادیتی ہیں آپ یا تو ان وحشتوں سے بھاگتے ہیں یا کسی کو وحشتوں کا ساتھی بنالیتے ہیں . تحریر: محسن علی "حقیقت زندگی کے رنگ" # 19